امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی جانب سے کیے گئے بدترین معاہدوں میں سے ایک ایران نیوکلیئر معاہدہ تھا، باراک اوباما اور اوباما انتظامیہ کے ناتجربہ کار افراد نے معاہدہ پیش کیا اور نافذ کیا۔
اپنے بیان میں ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف ایک براہِ راست راستہ تھا، ہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ طے کر رہے ہیں وہ بالکل اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے نمائندوں کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ کسی معاہدے میں جلدی نہ کریں، جب تک معاہدہ طے نہیں پا جاتا، ناکہ بندی پوری شدت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، دونوں فریقوں کو وقت لینا چاہیے اور اسے درست طریقے سے انجام دینا چاہیے، کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارےتعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز بنتے جا رہے ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ وہ ایٹمی ہتھیار یا بم نہ تو تیار کرسکتے ہیں، نہ ہی حاصل کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کا ان کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اگر وہ تاریخی ابراہیم معاہدوں میں شامل ہوں تو تعاون مزید مضبوط اور مؤثر ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ کون جانتا ہے، شاید اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔