اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر آزادانہ عسکری کارروائی سے متعلق اپنا موقف واضح کردیا۔
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں ایک ممکنہ سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی رائیٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بیجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل لبنان سمیت ہر محاذ پر اپنی عسکری کارروائیوں میں آزاد رہے گا۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب واشنگٹن اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ امن معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران ایک مفاہمتی یادداشت کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے، یہ بحری راستہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور جنگ کے آغاز کے بعد سے شدید متاثر ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ نکات شامل ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے جبکہ ایران بھی پیشگی حملوں سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر اس ممکنہ معاہدے پر اختلافات موجود ہیں، اسرائیلی سیاست دان بینی گینٹز نے لبنان میں جنگ بندی کو اسرائیل کی بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے اور افزودہ یورینیم کے انخلا کے مطالبے پر بدستور سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ شب کی گفتگو میں اسرائیل کی لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی برقرار رکھنے پر زور دیا، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے موقف کی توثیق اور حمایت کی۔