ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے موجودہ ورزش کے اہداف ناکافی ہیں اور لوگوں کو روزانہ 90 منٹ تک ورزش کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
عام طور پر بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کی ہدایت دی جاتی ہے، تاہم برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع چین کے محققین کی تحقیق کے مطابق زیادہ ورزش دل کے دورے، فالج اور دل کی ناکامی کے خطرے کو کہیں زیادہ کم کرتی ہے۔
یہ تحقیق مکاؤ پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جس میں 17 ہزار 88 افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔
شرکاء کی اوسط عمر 57 سال تھی اور ان کی جسمانی سرگرمی کو کلائی پر لگے آلات سے ایک ہفتے تک مانیٹر کیا گیا۔ اس دوران ان کا VO2 max بھی جانچا گیا، جو دل اور پھیپھڑوں کی صحت کا اہم پیمانہ ہے۔
تقریباً آٹھ سال کے فالو اپ میں 1,233 افراد کو دل کی بیماریوں کا سامنا ہوا، جن میں 874 کیسز دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی، 156 دل کے دورے، 111 دل کی ناکامی اور 92 فالج کے واقعات شامل تھے۔
وہ افراد جو ہفتے میں 150 منٹ ورزش کرتے تھے، ان میں دل کی بیماری کا خطرہ 8 سے 9 فیصد کم پایا گیا، تاہم جو افراد ہفتے میں 560 سے 610 منٹ ورزش کرتے تھے، ان میں خطرہ 30 فیصد تک کم ہوگیا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کم فٹنس رکھنے والے افراد کو زیادہ ورزش کرنی پڑتی ہے تاکہ وہی فائدہ حاصل کر سکیں جو فٹ افراد کو کم وقت میں مل جاتا ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق مشاہداتی تھی اور براہِ راست یہ ثابت نہیں کرتی کہ ورزش ہی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ 150 منٹ کی ہدایت مؤثر ہے، تاہم کچھ افراد کو زیادہ ورزش کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق معتدل ورزش وہ ہے جس میں دل کی دھڑکن تیز ہو، سانسیں تیز ہوں اور جسم گرم محسوس ہو جبکہ شدید ورزش میں سانس اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ چند الفاظ بولنے کے لیے بھی وقفہ لینا پڑتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔