پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پارٹی میں فیصلہ سازی کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کرنا پارٹی کا ٹھیک فیصلہ تھا، ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایک بین الاقوامی سفارتی سرگرمی میں حائل ہوں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سلمان صفدر کے ذریعے جلسہ ملتوی کرنے کا پیغام بھیجا۔ کل اچکزئی صاحب کی سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی، میری بھی ہونی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جن لوگوں کو ذمہ داریاں دی ہیں ان کی عزت کرنا لازمی ہے۔ اچکزئی صاحب اور علامہ ناصر عباس کی رہنمائی میں ہم آگے بڑھیں گے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جلسہ ملتوی کرنے پر ہمیں سہولت کاری کا طعنہ دیا گیا، حکومتی وفد کے سامنے بانی پی ٹی آئی کے علاج اور فیملی کی رسائی کا مطالبہ رکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے آخری اسٹیج پر حکومت کو دھمکی دینا مناسب نہیں سمجھا، سہولت کاری کی باتوں پر مجھے غم و غصہ ضرور تھا، علیمہ خان کے بارے جو کچھ میں نے کہا اس کا لہجہ مختلف ہوسکتا تھا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سہولت کاری کے الفاظ درست نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کچھ ایشوز تھے ہم اس سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت سے کوئی تناؤ اور اختلاف نہیں۔ میں نے کہا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو گی توتمام معاملات ان کے سامنے رکھوں گا۔