دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے والی ایپ اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ ہار گئے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی جیوری نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ درست نہیں تھا اور کمپنی کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ اس نے انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنے اصل مشن سے انحراف کیا۔
جیوری نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ مسک نے مقدمہ بہت دیر سے دائر کیا۔
مقدمے کی سماعت 28 اپریل کو شروع ہوئی اور 11 دن تک جاری رہی، یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا کیونکہ اس میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اے آئی کس طرح استعمال ہونی چاہیے اور اس کے فوائد کس کو ملنے چاہئیں۔
سماعت کے دوران مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کی ساکھ پر بھی بار بار سوال اٹھائے گئے۔
مسک نے الزام لگایا تھا کہ اوپن اے آئی نے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر منافع بخش ادارے کے مشن کو نظرانداز کیا اور اے آئی کی حفاظت کو ترجیح نہیں دی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائیکروسافٹ جانتا تھا کہ اوپن اے آئی کا مقصد مالی فائدہ ہے۔
تاہم اوپن اے آئی نے جواب دیا کہ اصل میں مسک خود مالی مفادات دیکھ رہے تھے اور انہوں نے بہت دیر سے دعویٰ کیا۔ اوپن اے آئی کے وکیل ولیم ساویٹ نے کہا کہ مسک کے پاس کچھ شعبوں میں کامیابی ہے، لیکن اے آئی میں نہیں۔
پس منظر
اوپن اے آئی اس وقت دیگر کمپنیوں جیسے اینتھروپک اور مسک کی اپنی کمپنی xAI سے مقابلہ کر رہی ہے۔ اوپن اے آئی ممکنہ طور پر ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے۔
مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری میں 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔
مسک کی کمپنی xAI اب SpaceX کا حصہ ہے، جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ مستقبل میں اوپن اے آئی سے بھی بڑا آئی پی او لا سکتی ہے۔
یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل سمجھا جا رہا تھا کیونکہ اس میں یہ بحث ہوئی کہ اے آئی کے استعمال اور اس کے مالی فوائد پر کس کا حق ہونا چاہیے۔