سیاہ فام اور نسلی اقلیتی کارکنوں کے ساتھ کام کی جگہ پر نسل پرستی، ہراسانی اور غیر منصفانہ سلوک ’انتہائی تشویشناک‘ سطح تک پہنچ گیا ہے۔
ٹریڈ یونین کانگریس کی تحقیق کے مطابق گزشتہ 6 برسوں کے دوران کام کی جگہ پر کھلی نسل پرستی میں حیران کن اضافہ سامنے آیا ہے۔
یونین نے خبردار کیا کہ سیاہ فام اور نسلی اقلیتی کارکنوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک، ہراسانی اور نسل پرستی عام ہو چکی ہے۔
تحقیق میں سامنے آنے والے واقعات میں انگریزی بولنے کی صلاحیت پر سوال اٹھانا، نسل پرستانہ لطیفے اور مذاق، نیز تشدد، دھمکیاں اور خوف و ہراس شامل تھے۔
ٹی یو سی کے جنرل سیکریٹری پال نوواک نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کے ساتھ اس کے پس منظر، اس کے آبائی علاقے یا اس کی جلد کے رنگ کی وجہ سے غیر منصفانہ سلوک یا امتیازی برتاؤ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں سیاہ فام اور نسلی اقلیتی کارکن نسل پرستی اور غیر منصفانہ سلوک کی خوفناک اور بڑھتی ہوئی سطح کا سامنا کر رہے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اسے ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس سروے برطانیہ میں 16 سال یا اس سے زائد عمر کے 1 ہزار سے زیادہ سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتی ملازم افراد نے حصہ لیا۔