جنوبی کوریائی شہری کو سڑک پر گھومتے بھیڑیے کی اے آئی سے بنی تصویر شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا۔ اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا میں ایک شخص کو سڑک پر گھومتے بھیڑیے کی جعلی تصویر بنانے کے جرم میں 5 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
واضح طور پر ناقص اے آئی تصاویر سے لے کر انتہائی حقیقی نظر آنے والی تصویروں تک، لاکھوں لوگ روزانہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل تصاویر بناتے ہیں۔
ایسے پلیٹ فارمز میں حفاظتی پابندیاں موجود ہوتی ہیں، لیکن یہ بات سامنے آئی ہے کہ بظاہر بے ضرر تخلیقات بھی سنگین نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال شہر کی سڑکوں پر چلتے بھیڑیے کی بظاہر معصوم سی یہ تصویر ہے۔
ویسے تو کوئی بھی اے آئی پروگرام استعمال کر کے اس سے کہیں زیادہ خطرناک تصاویر بنا سکتا ہے، لیکن 40 سالہ جنوبی کوریائی شخص کو یہ تصویر کافی مہنگی پڑ گئی، اسے پانچ سال قید اور 6,700 ڈالر جرمانے کا سامنا ہے۔
شہر میں گھومتے ہوئے ایک بھیڑیے کی حقیقت سے قریب تر تصویر بنانے کے لیے ٹیکسٹ پرامپٹ استعمال کرنا اور اسے آن لائن پوسٹ کرنا بظاہر جرم نہیں لگتا، لیکن اگر واقعی کوئی بھیڑیا آزاد گھوم رہا ہو تو کیا ہوگا؟
جنوبی کوریائی حکام کے مطابق اے آئی سے تبدیل شدہ تصویر نے بھیڑیے کو تلاش کرنے کے دوران پولیس اور فائر فائٹرز کی عوام کے تحفظ سے متعلق بنیادی ذمہ داریوں میں نمایاں خلل پڑا۔ انتظامیہ نے پرائمری اسکولز کو بند کیا اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے خصوصی ہنگامی ٹیمیں تعینات کیں۔
جب تک یہ بات سامنے آئی کہ اس بڑے آپریشن کا سبب بننے والی تصویر جعلی تھی، تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔ بالآخر پولیس نے اس شخص کو گرفتار کرلیا، جس نے یہ اے آئی تصویر بنائی تھی، اس کا کہنا ہے کہ یہ محض تفریح کے لیے بنائی تھی۔