امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا تو ہم ہوتے نہ ہی اسرائیل ہوتا۔
اوول آفس میں گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار رکھتا تو اب تک مشرق وسطیٰ کو ختم کرچکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے روکا نہ ہوتا تو ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا، پھر آج نہ ہم یہاں ہوتے نہ اسرائیل ہوتا، وہ نہیں چاہتے ایران میں گھس کو لوگوں کو قتل کریں، اس لیے ایرانیوں کو بہتر فیصلہ کرنا چاہیے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو مکمل ختم کردیا، تہران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں گے تو دنیا خطرے میں پڑ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ نیو یارک میں بہت سے ایرانیوں کو جانتے ہیں، ایرانی بہت اچھے ہوتے ہیں اور وہ اچھے لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے۔
تیل کی بڑھتی قیمتوں پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ بہت چھوٹی قیمت ہے جو دنیا ایٹمی حملے سے بچنے کے لیے ادا کر رہی ہے، ان کا خیال تھا کہ ایک بیرل تیل دو سو، ڈھائی سو یا تین سو ڈالرز تک چلا جائے گا، لیکن آج تیل کا ایک بیرل صرف 102 ڈالرز کا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی معیشت کی ناکامی دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ خود جیتنا چاہتے ہیں، امریکا نے ایران پر ایسی پابندیاں لگائی ہیں، جن کا پہلے تصور نہ تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی کرنسی بے وقعت ہے، وہاں مہنگائی کی شرح 150 فیصد ہے، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن جو بات انہیں پسند نہیں، وہ یہ کہ ایرانی آکر ان سے ملیں گے پھر واپس جا کر اپنے لوگوں سے کہیں گے کہ انہوں نے امریکی صدر سے بات تک نہیں کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے رہنما بھی باقی نہیں رہے، پوری صورتحال ان کے خلاف ہے، میڈیا ایران کی کامیابی کی غلط تصویر دکھا رہا ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فیک نیوز کی کوئی ساکھ نہیں رہی، عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔