برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے جانے والے بین الاقوامی مشن میں ڈرونز، لڑاکا طیارے اور جنگی بحری جہاز فراہم کرے گا۔
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے منگل کے روز دفاعی وزراء کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران اس اقدام کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق مشن میں بحری بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے جدید خودکار نظام، ڈرون کشتیاں اور ٹائفون لڑاکا طیارے شامل ہوں گے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق اس مشن میں 40 سے زائد ممالک شریک ہیں اور حالات سازگار ہوتے ہی کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری کشیدگی کے باعث اس علاقے میں صورتحال غیر یقینی کا شکار رہی ہے۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد تجارتی جہاز رانی کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ برطانیہ نے اس مقصد کے لیے 115 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ بھی مختص کی ہے۔
اس منصوبے کے تحت نامی برطانوی جنگی جہاز بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا جائے گا۔