ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن دوبارہ اسرائیل کے جال میں آکر ایران کے خلاف کسی نئی جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے تو ایرانی مسلح افواج نئے محاذ اور نئی حکمتِ عملی اختیار کریں گی۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیر جنرل محمد اکرمی نے تہران کے ولی عصر اسکوائر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہ محاصرے میں لیا جاسکتا ہے اور نہ شکست دی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے دوبارہ ’’غلطی‘‘ کی اور صہیونیوں کے جال میں آکر ایران پر حملہ کیا تو ایران نئے ہتھیاروں اور نئے طریقوں سے جواب دے گا۔
ترجمان نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے عرصے کو بھی جنگی دور سمجھتے ہوئے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اب وہاں صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کا احترام کرے۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جن میں جوہری تنصیبات، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے اس کے جواب میں آپریشن صادق 4 کے تحت جوابی حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز میں نئی بحری پابندیاں بھی نافذ کی گئیں، جن کے تحت تمام بحری جہازوں کو گزرنے سے قبل ایرانی اجازت لینا ہوگی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی برقرار ہے، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے اور مستقل امن قائم ہونے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔