امریکا میں اپریل کے دوران مہنگائی میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔
امریکی محکمۂ شماریات کے مطابق مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد اضافہ ہوا ہے جو تقریباً گزشتہ 3 برس کی بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، ایک سال کے دوران پیٹرول 28.4 فیصد مہنگا ہوا جبکہ توانائی کی مجموعی قیمتوں میں 17.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں فی گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت 4.50 ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں کشیدگی کے باعث ایندھن مہنگا ہوا جس کے اثرات فضائی سفر سمیت دیگر شعبوں پر بھی پڑ رہے ہیں، فضائی کرایوں میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کئی فضائی کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے سے متعلق سوال پر کہا ہے کہ میری اولین ترجیح صرف یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے، عوام کی مالی مشکلات میرے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے، ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔