ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنگ کے 68 ویں دن اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے شروع کیا گیا فوجی آپریشن عارضی طور یہ کہتے ہوئے پر روک دیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ’نمایاں پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران پر دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، ایران یک طرفہ مطالبات قبول نہیں کرے گا۔