ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کا آغاز نہیں کیا اپنا دفاع کیا، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمے دار ایران نہیں، ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہمیں اعتماد میں لینا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، ہمارا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے مسئلے کا حل بات چیت کے سوا کچھ اور نہیں ہے، ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن امریکا پر بھروسہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا، 40 دن کی جنگ کے بعد امریکا کو ایران پر جارحیت سے کوئی مقصد حاصل نہ ہوا تو پھر امریکا نے مذاکرات کی بات کی، ہمیں امریکا پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے، ہمارے پاس امریکا پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ہے، ایران سالوں سے امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں، امریکا کے ساتھ کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہئیں۔