Home اہم خبریںبے بسی کا احساس دائمی تکلیف یا بیماری کو مزید بڑھا دیتا ہے، تحقیق

بے بسی کا احساس دائمی تکلیف یا بیماری کو مزید بڑھا دیتا ہے، تحقیق

by Admin
0 comments

ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے پتہ لگایا ہے کہ بے بسی کا احساس دراصل دائمی درد، مستقل تکلیف یا بیماری کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ محققین کے مطابق وہ لوگ جو ذہنی طور پر تکلیف کے سامنے ہتھیار ڈال کر ذہنی طور پر شکست تسلیم کرتے ہیں، جسے طبی اصطلاح میں سماجی شناخت کھونا کہا جاتا ہے۔ 

ایسے افراد میں درد کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ان کے معیار زندگی میں مزید کمی آجاتی  ہے۔ 

اس تحقیق کے دوران دائمی تکلیف کے ساتھ زندگی گزارنے والے 137 بالغ افراد سے ان کے خیالات، جذبات اور رویّوں کے بارے میں دو ہفتوں تک دن میں تین مرتبہ سوالات کیے گئے۔

تحقیق کے نتائج طبی جریدے پین میں شائع ہوئے ہیں۔ جس  سے ظاہر ہوا کہ کسی شخص کے اندر ذہنی شکست کے احساس میں اضافہ مسلسل درد کی شدت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افراد سماجی مواقع سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں کو چھوڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں دائمی درد یا بیماری مزید بڑھ جاتی ہے۔

محققین کے مطابق اس سے ایک خود کو تقویت دینے والا چکر پیدا ہوتا ہے، جس میں ذہنی شکست کا احساس رکھنے والا فرد اپنے بارے میں مزید منفی خیالات اپنانے لگتا ہے، جو اس احساس کو مزید تقویت دیتا ہے۔ محققین نے یہ بھی پتہ لگایا کہ ذہنی شکست کا احساس درد کی شدت سے براہِ راست وابستہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک الگ نفسیاتی عمل ہے۔ 

اس تحقیق کے نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دائمی تکلیف کے علاج کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ برطانوی محکمہ صحت کے ہیلتھ سروے فار انگلینڈ کے مطابق 26 فیصد بالغ افراد کسی نہ کسی قسم کے دائمی درد کا شکار ہیں۔ جبکہ ہیلتھ فاؤنڈیشن کے تخمینے کے مطابق 2040 تک مزید 19 لاکھ بالغ افراد دائمی تکلیف کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نئے علاج کے منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جو لاکھوں افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ 

یونیورسٹی آف واروک کے پروفیسر برائے سوشل کمیونٹی  سائیکاٹرک اور سینئر ریسرچر سورن سنگھ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جس وقت ذہنی شکست میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس کی نشاندہی کر کے مستقبل کے ڈیجیٹل ٹولز، جیسے اسمارٹ فون پر مبنی انٹروینشنز سے بروقت مدد فراہم کر سکتے ہیں تاکہ ایسے لوگوں میں منفی تصورات کو بدل سکیں اور اپنی سرگرمی برقرار رکھ سکیں اور تکلیف کو کم کر سکیں۔  

انھوں نے کہا اس طرح کا بروقت اقدام جاری علاج کے ساتھ زیادہ ذاتی نوعیت کی مدد فراہم کر سکتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00