امریکی حکام نے مشہور گلوکار ڈیویڈ انتھونی برک المعروف ’D4vd‘ کے خلاف انتہائی سنگین انکشافات کیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ سے بڑی مقدار میں قابلِ اعتراض مواد برآمد ہوا ہے، اس مواد میں ناصرف بالغ کئی لڑکیوں بلکہ بچوں کی بھی قابلِ اعتراض ویڈوز برآمد ہوئی ہیں جبکہ گلوکار کے زیرِ استعمال مختلف برقی آلات سے مجموعی طور پر 20 سے 30 ٹیرا بائٹ ڈیٹا ابھی حاصل کیا جا رہا ہے۔
ملزم پر 14 سالہ لڑکی سیلسٹے ریواس ہرنینڈز کے قتل کا الزام ہے۔
رپورٹس کے مطابق کم عمر لڑکی کی لاش گلوکار کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی سے برآمد ہوئی تھی، لاش کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور اس کی حالت انتہائی خراب تھی، طبی معائنے میں نشہ آور ادویات کے آثار بھی پائے گئے تھے۔
عدالت میں پیشی کے دوران پراسیکیوٹر نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک صرف 1 ٹیرا بائٹ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ باقی مواد کی جانچ جاری ہے، تمام شواہد، بشمول ویڈیوز، ڈی این اے، تصاویر اور فرانزک رپورٹس آئندہ سماعت پر دفاعی ٹیم کے حوالے کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قتل ممکنہ طور پر مالی فائدے اور ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
ملزم نے الزامات سے انکار کیا ہے اور اس کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس کا بھرپور دفاع کریں گے۔
عدالت نے ملزم کو بغیر ضمانت کے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔