امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایران جنگ کے دورانیے سے متعلق صحافیوں کے سوالات پر برہم ہو گئے۔
صحافی نے پوچھا کہ یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی، جس پر ٹرمپ نے میڈیا کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق درست انداز میں پیش نہیں ہو رہے اور دعویٰ کیا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
جنگ بندی سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اُنہیں جلدی میں نہ ڈالا جائے، ساتھ ہی ویتنام اور عراق جنگوں کے دورانیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی انتظامیہ کو ایران جنگ شروع کیے ابھی چند ہفتے ہی ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ امریکا پر جنگ ختم کرنے کا دباؤ ہے، کہا کہ ایران کو اپنے اندرونی مسائل سنبھالنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، لیکن اُس کے بدلے امریکیوں کو ایک ایسا ایران ملے گا جو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران جنگ کے باوجود تیل کی قیمتیں توقع سے کم اور اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر ہے۔