بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر میں انسدادِ منشیات ایجنسی کی تحویل میں ہلاک ہونے والے بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر 34 زخم ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد معاملہ مشکوک ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 35 سالہ جسویندر سنگھ کی موت مارچ میں دورانِ تفتیش طبیعت بگڑنے کے بعد ہوئی تھی، اہلِ خانہ نے ابتداء ہی سے الزام لگایا تھا کہ جسویندر سنگھ کو تحویل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اہلکار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 25 زخم موت سے 2 سے 4 دن پہلے جبکہ 9 زخم موت سے 18 سے 24 گھنٹے قبل لگے جو اس عرصے سے مطابقت رکھتے ہیں جب وہ ادارے کی تحویل میں تھا۔
اہلکار کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ایک جسم پر اتنی بڑی تعداد میں زخم ہونا معمولی بات نہیں، رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ میرے شوہر کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جسویندر جموں کا رہائشی تھا اور چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا جب اسے منشیات کنٹرول ٹیم نے حراست میں لیا۔
بعد ازاں اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی تھی کہ دورانِ تفتیش اس کی موت واقع ہو گئی ہے۔