بھارتی شہر ممبئی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد پر اسرار طور پر انتقال کرگئے، شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات فوڈ پوائزننگ کے باعث ہوئیں۔
پولیس کے مطابق 40 سالہ عبداللّٰہ عبدالقادر، ان کی 35 سالہ اہلیہ نسرین، 16 سالہ بیٹی عائشہ اور 13 سالہ بیٹی زینب ہفتہ کی شب اہل خانہ کے ساتھ بریانی کھانے کے بعد گھر واپس آئے تھے۔ بعد ازاں رات تقریباً ایک بجے انہوں نے تربوز کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد سب کی طبیعت بگڑ گئی۔
اتوار کی صبح تقریباً 5 بجے خاندان کے افراد کو شدید الٹی اور دست شروع ہوگئے۔ ابتدائی طور پر مقامی ڈاکٹر نے علاج کیا، مگر حالت مزید خراب ہونے پر انہیں دوسرے بڑے جے جے اسپتال منتقل کیا گیا۔
سب سے پہلے 13 سالہ زینب صبح تقریباً 10:15 بجے انتقال کر گئیں۔ بعد ازاں والدہ نسرین اور بڑی بہن عائشہ بھی جانبر نہ ہو سکیں، جبکہ والد عبداللّٰہ رات تقریباً 10:30 بجے چل بسے۔
ابتدائی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر زید قریشی کے مطابق مریض انتہائی کمزور حالت میں تھے اور انہیں شدید قے ہورہی تھی۔ ڈاکٹر کے مطابق اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے تربوز کھایا تھا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ حادثاتی موت کے تحت درج کر لیا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا ہے۔ آدھا کھایا ہوا تربوز قبضے میں لے کر لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔
محکمہ خوراک، فارنزک ٹیم اور اسپتال کی مائیکرو بایولوجی لیب تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے آیا تربوز میں کوئی زہریلا مادہ، ملاوٹ یا بیکٹیریا موجود تھا یا نہیں۔
حکام کے مطابق حتمی وجہ موت ہسٹوپیتھالوجی اور دیگر ٹیسٹ رپورٹس آنے کے بعد سامنے آئے گی۔