پابندیوں کا سامنا کرنے والے روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف سے منسوب لگژری سُپر یاٹ نے آبنائے ہرمز عبور کر لی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث محدود سمندری آمد و رفت کے دوران ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میرین ٹریفک پلیٹ فارم کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق نورڈ نامی 142 میٹر (465 فٹ) طویل یاٹ کی مالیت 50 کروڑ ڈالرn سے زائد بتائی جاتی ہے، جو جمعے کو پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً شام 7 بجے دبئی کی ایک مرینا سے روانہ ہوئی، ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز عبور کیا اور اتوار کی صبح مسقط پہنچ گئی۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کثیر منزلہ تفریحی جہاز کو اس حساس راستے سے گزرنے کی اجازت کیسے ملی، کیونکہ فروری سے ایران نے اس گزرگاہ سے گزرنے والی بحری آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
الیکسی مورداشوف کے نمائندے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان غیر یقینی جنگ بندی کے باوجود اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ صرف چند، زیادہ تر تجارتی جہاز ہی گزر رہے ہیں، جبکہ جنگ سے قبل یومیہ 125 سے 140 جہازوں کی آمد و رفت معمول تھی۔