برطانیہ میں زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات، قرضہ اور غیر محفوظ نوکریاں لوگوں کے استحصال کا باعث بن رہی ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی مجرموں کو غیر قانونی کاموں کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے اور انہیں کنٹرول کرنا آسان بنا رہی ہے۔
یہ انتباہ دیتے ہوئے دی انڈپینڈنٹ اینٹی سلیوری کمشنر ایلیون لیونز نے کہا ہے کہ جدید غلامی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی ہے، 2025ء میں 23 ہزار سے زائد ممکنہ جدید غلامی کے متاثرین کو مانیٹرنگ گروپ کے پاس بھیجا گیا، یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے اور اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اس حوالے سے شائع رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مجرم گروہوں کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور جنسی استحصال کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
2025ء میں ممکنہ متاثرین کے پانچویں حصے کا تعلق خود برطانیہ سے تھا، جو سب سے بڑا گروپ ہے، اس کے بعد 13 فیصد کے ساتھ اریٹیریا اور 9 فیصد کے ساتھ ویتنام تھا۔
یہ رپورٹ جدید غلامی ایکٹ کے نافذ ہونے کے ایک دہائی بعد سامنے آئی ہے، جس میں 50 سے زائد اداروں کے شواہد کو یکجا کر کے تجزیہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات اور بے گھر ہونے کے بڑھتے واقعات انسانی اسمگلروں کے لیے کمزور لوگوں کا استحصال آسان بنا رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اسمگلروں کو متاثرین کو پھنسانے اور قابو میں رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔
ایلیون لیونز کا کہنا ہے کہ اگر بر وقت اقدامات نہ کیے گئے تو استحصال کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بچوں کو ویڈیو گیمز کی چیٹ کے ذریعے پھنسایا جاتا ہے، مجرم ان کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، انہیں ٹوکن خرید کر دیتے ہیں اور کمزور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں، یہ عمل گرومنگ اور بلیک میلنگ کی شروعات ہوتا ہے۔
ایلیون لیونز کے مطابق لڑکوں کو کاؤنٹی لائنز اور منشیات کے گروہوں جبکہ لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لڑکیوں کا جنسی استحصال گزشتہ 5 برسوں میں 50 فیصد بڑھا ہے اور یہ کم عمر بچوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے، بچے اور بالغ دونوں ہی سزا اور مشکلات کے خوف کے باعث اس بارے میں بتانے سے ڈرتے ہیں۔
ہوم آفس کے ترجمان نے کہا ہے کہ جدید غلامی کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے حکومت پُرعزم ہے، محکمہ متاثرین کے ساتھ کام کر رہا ہے، ان کیسز کے بیک لاگ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور کارروائی کو تیز کرنے کے لیے 200 افراد پر مشتمل اضافی عملے کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔