برطانوی نژاد عراقی شہری اور مسلم تنظیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انس التکرتی کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، جس کے بعد انہوں نے خود کو ’کینسل کلچر‘ کا شکار قرار دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخصیت نے 7 اکتوبر کے حملوں سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے انہیں ’جھوٹ‘ قرار دیا تھا، اب اس بیان پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، کینیڈین حکام نے انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
اس حوالے سے انس التکرتی کا کہنا ہے کہ فلسطینی حقوق کی حمایت کرتا رہا ہوںاور میرے خلاف کارروائی سیاسی دباؤ اور اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ 7 اکتوبر کے حملوں سے متعلق بیانات انتہائی حساس نوعیت رکھتے ہیں اور ایسے بیانات نفرت انگیزی یا غلط معلومات پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکام نے احتیاطی اقدام اٹھایا ہے۔
فی الحال کینیڈین حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان تو جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم وہاں کے امیگریشن قوانین کے تحت کسی بھی ایسے فرد کے داخلے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے جس کے بیانات عوامی سلامتی یا سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ سمجھے جائیں۔