امریکا میں یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ دستاویزات منظرِ عام پر آنے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی۔
امریکی محکمۂ جنگ کی جانب سے جاری کی گئی نئی فائلوں میں ایک حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے کہ خلائی مخلوق نے انسانوں سے رابطہ کر کے مستقبل میں اپنی لینڈنگز کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا تھا۔
جاری کردہ ایف بی آئی میمو کے مطابق 12 جنوری 1955ء کو ڈیٹرائٹ فلائنگ سوسر کلب کے ایک رکن رینڈل کاکس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے خلائی مخلوق کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔
میمو کے مطابق خلائی مخلوق نے انسانوں کو کائنات کی کم ترین مخلوق قرار دیا اور کہا کہ زمین کے علاوہ دیگر تمام سیارے خلاء کو فتح کر چکے ہیں۔
میمو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مبینہ خلائی مخلوق نے خود کو امریکا کا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں سے رابطے کا مقصد انہیں مستقبل میں خلاء سے ہونے والی مزید لینڈنگز کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز ایک ایئر ٹیل میمو تھی، جو ڈیجیٹل دور سے قبل ایف بی آئی ایجنٹس کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
تاہم 1955ء سے لے کر اب تک زمین پر کسی بھی خلائی مخلوق کی تصدیق شدہ آمد یا لینڈنگ رپورٹ نہیں ہوئی۔