جمہوریہ کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی نئی وبا پھوٹ پڑی، جس میں اب تک 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کانگو وزارتِ صحت نے جمعے کی رات بتایا کہ جمعرات کو لیے گئے نمونوں میں ایبولا وائرس کے بندیبوگیو اسٹرین کے 8 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ کیسز روامپارا، مونگوالو اور بونیا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے۔
مشتبہ کیسز اور ابتدائی مریض
وزارتِ صحت کے مطابق اب تک وائرس کے 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ مشتبہ ابتدائی مریض ایک نرس تھی جو بونیا کے ایونجیلیکل میڈیکل سینٹر میں بخار، خون بہنے، قے اور شدید کمزوری کی علامات ظاہر کرنے کے بعد چل بسی تھی۔
حکومتی اقدامات
کانگو کی حکومت نے عوامی صحت کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کو فعال کر دیا ہے، ایپیڈیمولوجیکل اور لیبارٹری نگرانی کو مضبوط بنایا ہے اور فوری ردعمل دینے والی ٹیموں کو تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
افریقی اداروں کا ردعمل
افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے جمعے کو کہا کہ ایتوری صوبے میں ایبولا کی وبا کی تصدیق ہو چکی ہے اور اب تک 65 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ادارے نے کانگو، یوگنڈا، جنوبی سوڈان اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا تاکہ سرحدی نگرانی اور تیاری کو مضبوط بنایا جاسکے۔
وائرس کی نئی قسم
ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ یہ وائرس غیر-زائیر اسٹرین ہے، جس کی مزید جینیاتی جانچ جاری ہے۔
معروف کانگولیسی وائرولوجسٹ ژاں-ژاک مویمبے نے کہا کہ کانگو کی 16 میں سے تقریباً تمام پچھلی وبائیں زائیر اسٹرین سے ہوئی تھیں، اس لیے نئی قسم کی شناخت ردعمل کو پیچیدہ بنا دے گی کیونکہ موجودہ علاج اور ویکسین زائیر اسٹرین کے خلاف تیار کیے گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کردار
ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ 5 مئی کو مشتبہ کیسز کی اطلاع ملی تھی اور ٹیم کو ایتوری بھیجا گیا، تاہم ابتدائی نمونے منفی آئے۔
جمعرات کو کنشاسا کی لیبارٹری نے مثبت کیسز کی تصدیق کی، جس کے بعد تعداد 13 تک پہنچ گئی۔ ادارے نے ہنگامی فنڈ سے 5 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں تاکہ نگرانی، کانٹیکٹ ٹریسنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور علاج میں مدد دی جا سکے۔
پس منظر
یہ کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے، جو پہلی بار 1976 میں شناخت ہوئی تھی۔ سب سے حالیہ وبا کاسائی صوبے میں تھی، جو دسمبر 2025 میں ختم ہوئی۔ اس میں 64 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 45 افراد ہلاک اور 19 صحتیاب ہوئے۔