ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نیا میکانزم تیار کر لیا، جسے جلد پیش کرنے کا اعلان کردیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ نظام تیار کیا ہے، جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا۔
اس سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہوں گے، میکانزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائے گی، یہ راستہ نام نہاد ‘فریڈم پروجیکٹ ‘ آپریٹرز کے لیے بند رہے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید اراوانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال اور اُس کے عالمی معاشی اثرات کی ذمہ داری اُن قوتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران کو دو غیر قانونی جارحانہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑا جو یو این چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے، اس کے اثرات فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔