بھارت نے بنگلا دیش کے ساتھ اپنی 4096 کلومیٹر طویل سرحد کے مشکل دریائی حصوں میں باڑ لگانے میں ناکامی کے بعد ایک متنازع منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت مگرمچھ اور زہریلے سانپ چھوڑ کر غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی سرحدی فورس نے 26 مارچ کو ایک خفیہ ہدایت میں اہلکاروں کو کہا کہ وہ دریائی حدود میں رینگنے والے جانوروں کے استعمال کی ممکنہ صورتوں کا جائزہ لیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ دلدلی اور دریائی علاقوں میں باڑ لگانا مشکل ہے جس کی وجہ سے یہ قدم زیرِ غور آیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ناصرف غیر انسانی اقدام ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو گا کیونکہ یہ جانور یہ فرق نہیں کر سکتے کہ کون مقامی ہے اور کون درانداز۔
رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی ماہرین کی رائے ہے کہ مگرمچھ ان علاقوں کے قدرتی باشندے نہیں ہیں، اس لیے وہاں منتقل کیے جانے پر ان کی بقا مشکل ہو گی، اس کے علاوہ یہ اقدام پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور دیگر جانداروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
دریائی علاقوں میں سیلاب کے باعث زہریلے سانپ آبادیوں تک پہنچ سکتے ہیں جس سے ماہی گیروں اور مقامی لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو گا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک نے سرحدی نگرانی کے لیے جنگلی درندوں کے استعمال کی مثال قائم نہیں کی اور یہ منصوبہ غیر عملی اور خطرناک ہے۔