ریبیز کے کیسز پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت نے اینٹی ریبیز مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سگ گزیدگی کے کیسز میں اضافے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے تمام ریفرل سینٹرز میں اینٹی ریبیز ویکسین اور علاج 24 گھنٹے دستیاب رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ریبیز سے بچاؤ کے حوالے سے ایک اجلاس ہوا، جس میں سینئر وزیر شرجیل میمن، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری سندھ اور محکمہ صحت و بلدیات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے بھر میں اینٹی ریبیز مہم شروع کرنے اور قابلِ تدارک ریبیز اموات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ بھر میں جنوری سے اپریل 2026ء تک کتے کے کاٹے کے 85 ہزار 891 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
صوبے میں اس وقت 278 ریبیز پریوینشن یونٹس اور 112 ریفرل سینٹرز فعال ہیں، جہاں اینٹی ریبیز ویکسین اور آر آئی جی 24 گھنٹے دستیاب رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 20 اضلاع میں اب تک 25 ہزار 500 سے زائد کتوں کی نس بندی اور 36 ہزار 900 سے زائد کتوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ مزید 11 ریبیز کنٹرول مراکز جلد فعال کیے جائیں گے۔
انہوں نے محکمہ اطلاعات کو سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں 7 روزہ آگاہی مہم تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شعور ہی ریبیز کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہے۔