امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا دفاع کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پوپ لیو کیتھولک افراد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، صدر کا اصل مؤقف ایران کے ممکنہ خطرے سے متعلق تھا، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں بڑی تعداد میں عیسائی اور کیتھولک آباد ہیں۔
اُنہوں نے ایران پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھا کر عالمی تجارت کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور سوال اٹھایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کیوں دی جائے؟
عرب میڈیا کے مطابق اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پوپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے معاملے پر نرم رویہ رکھتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ کے اس رویے کو ’خطرناک‘ قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ مارکو روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ جمعرات کو ویٹی کن میں پوپ سے ملاقات کریں گے، امریکی سفیر کے مطابق یہ ملاقات کھل کر گفتگو کے لیے اہم ہو گی۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ پوپ لیو نے کبھی ایران کے جوہری ہتھیاروں کی حمایت نہیں کی تاہم وہ جنگ کے خلاف ہیں اور امن و مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں۔
ٹرمپ اور پوپ کے درمیان تنازع مارچ سے جاری ہے جب پوپ نے ایران جنگ اور مذہب کے نام پر فوجی کارروائی پر تنقید کی تھی۔
بعد ازاں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔
پوپ نے جواب میں کہا تھا کہ میں جنگ کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا کیونکہ دنیا میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور امن ہی مسائل کا حل ہے۔