چین سے تعلق رکھنے والے ہو ژیانگ کو چین کا ایج لیس اداکار کہا جاتا ہے۔ 40 سالہ اداکار اپنی شکل و صورت اور سراپے کی وجہ سے بمشکل 12 برس کے نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے انھیں چین کا بینجمن بٹن بھی کہاجاتا ہے، کیونکہ طبی وجوہات کی بنا پر ان کی جسمانی نشوونما بچپن ہی میں رک گئی تھی۔
حال ہی میں ہو ژیانگ کی نوجوان دکھائی دینے والی شکل دوبارہ چین میں سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی، جب ان کی اور اہلیہ کی تصاویر وائرل ہوئیں، حالانکہ ان کی شادی کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوڑا ماں اور بیٹے جیسا لگتا ہے، مگر ہو ژیانگ نے اس تنقید کو سنجیدگی سے نہیں لیا، کیونکہ انکی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے تبصروں کا سامنا کرتے ہوئے گزر چکا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق ہو ژیانگ قبل از وقت پیدا ہوئے تھے کیونکہ ان کی والدہ حمل کے دوران غذائی قلت کا شکار تھیں۔ اس وجہ سے وہ ہمیشہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے چھوٹے دکھائی دیتے تھے، 9 سال کی عمر میں ان کی جسمانی نشوونما رک گئی اور وہ ہمیشہ ایک کم عمر لڑکے جیسے نظر آنے لگے۔
اپنی بالغ زندگی میں اکثر لوگوں نے انہیں کم عمر بچہ سمجھا اور اکثر سوال کرتے لڑکے تم کہاں پڑھتے ہو؟ لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے اپنے خوابوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ خاندان کی حمایت سے انہوں نے اداکاری کا شعبہ اختیار کیا اور 2005 میں ایک مزاحیہ ڈرامے ہوم ود کڈز میں ایک پرائمری اسکول کے طالبعلم کا کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی۔ اس وقت ان کی عمر 19 سال تھی۔
بعد ازاں انہوں نے کئی مقبول چینی ڈراموں میں کام کیا، جہاں انہوں نے زیادہ تر کم عمر کردار نبھائے۔ ہدایتکار ان کی اداکاری اور ہدایات پر مکمل عمل کرنے کی صلاحیت کی تعریف کرتے تھے، کیونکہ یہ خوبی اکثر بچوں میں کم پائی جاتی ہے۔
40 سالہ اداکار نے اعتراف کیا کہ ان کی بچوں جیسی شکل اور آواز کی وجہ سے انہیں محدود قسم کے کردار ہی ملتے ہیں، لیکن وہ ہر کردار کو بہترین انداز میں نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہو ژیانگ کے مطابق میرے لیے ایسا اسکرپٹ اور کردار تلاش کرنا آسان نہیں جسے میں واقعی پسند کروں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ جو کردار مجھے ملے، میں انہیں مکمل مہارت سے ادا کروں۔ ایک اداکار کے لیے یہ بھی کامیابی کی ایک شکل ہے۔
انھوں نے ہمیشہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک پرسکون اور سادہ زندگی گزاری ہے۔ وہ شہرت اور غیر ضروری توجہ کے بجائے اپنے خاندان اور اداکاری پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔