جنگی صورتِ حال اور غیر یقینی حالات کے باعث ایرانی حکومت نے خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں جبکہ ایرانی عوام اخراجات کم کر کے صرف ضروری اشیاء خرید رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت نے بنیادی اشیاء جیسے گندم، ادویات اور بچوں کے دودھ کی درآمد کے لیے کم سرکاری زرِ مبادلہ کی شرح دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس مقصد کے لیے 3.5 ارب ڈالرز مختص کیے گئے ہیں جبکہ یہ شرح اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں کافی کم رکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے 1 ارب ڈالرز قومی ترقیاتی فنڈ سے نکال کر چاول، چینی، گوشت اور دیگر اشیاء کے ذخائر بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ملک میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوام کو ملنے والی ماہانہ مالی امداد 10 ڈالرز سے بھی کم ہے جسے بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جنگ اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ کاروبار شدید متاثر ہوا ہے، عوام میں اشیاء ذخیرہ کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں قحط کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے کیونکہ ہمسایہ ممالک کے ذریعے درآمدات ممکن ہیں تاہم عوام میں تشویش برقرار ہے۔