اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا۔
مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 10 اعشاریہ 50 فیصد سے بڑھ کر 11 اعشاریہ 50 فیصد ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ معاشی ماہرین کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں معاشی بے یقینی کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا براہ راست اثر مہنگائی پر بھی پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ ضروریات کی چیزوں پر پڑتا ہے۔