چین نے وائٹ ہاؤس کورسپونڈینٹ ڈنر میں فائرنگ کی مذمت کر دی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے وائٹ ہاؤس کورسپونڈینٹ ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کر دی۔
ترجمان نے کہا ہے کہ چین اس فائرنگ کے واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہمیشہ غیر قانونی اور پرتشدد کارروائیوں کی مخالفت اور مذمت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کو ہفتے کی شب واشنگٹن ہلٹن میں منعقدہ ایک تقریب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ واشنگٹن ڈی سی میں نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران پیش آنے والے واقعے میں ایک پولیس افسر کو گولی لگی، افسر کی جان بچا لی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور کی شناخت کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، اسے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔
قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا ہے کہ کول ٹوماس ایلن کو اس وقت روکا گیا جب وہ حفاظتی حصار توڑنے سے محض چند قدم کے فاصلے پر تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد دنیا بھر کے رہنماؤں نے مذمت اور امریکا کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا ہے۔