ایران تیزی سے خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے محروم ہو رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق تحقیقی ادارے کپلر کا کہنا ہے کہ ایران جو کبھی ماضی میں اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک تھا، اب اس کی خام تیل کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہو کر 22 دن یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں مزید کٹوتی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
کپلر کے تجزیہ کاروں نے پیر کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے پاس غیر استعمال شدہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف 12 سے 22 دن تک باقی رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث امکان ہے کہ ایران کو مئی کے وسط تک یومیہ تیل کی پیداوار میں مزید 15 لاکھ بیرل تک کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے گولڈ مین سیکس گروپ کے مطابق ایران پہلے ہی یومیہ 25 لاکھ بیرل تک خام تیل کی پیداوار میں کمی کر چکا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک جن میں سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، انہوں نے بھی 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازع کے بعد اپنی پیداوار کم کی ہے۔
اگرچہ ایران کی تیل کی پیداوار کے لیے صورتِ حال تشویش ناک دکھائی دیتی ہے، تاہم کپلر کے مطابق تہران کو اس کے مالی اثرات کا مکمل سامنا کرنے میں ابھی چند ماہ لگ سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سے اپریل کے آغاز سے ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی میں کمی کے باعث ایران کی برآمدات گھٹ کر تقریباً 5 لاکھ 67 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہیں، جبکہ مارچ میں یہ اوسطاً 18 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں۔
کپلر کے مطابق اس ناکہ بندی کے باوجود ایران کی آمدنی پر فوری اثر نہیں پڑے گا اور اس کے مالی اثرات ظاہر ہونے میں تقریباً 3 سے 4 ماہ لگ سکتے ہیں۔