برطانیہ نے سگریٹ نوشی کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نئی قانون سازی منظور کر لی ہے، جس کے تحت آنے والی نسلوں کے لیے تمباکو کی خریداری ہمیشہ کے لیے ممنوع بنا دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے نئے قانون کے تحت 2009 کے بعد پیدا ہونے والے افراد زندگی بھر قانونی طور پر سگریٹ نہیں خرید سکیں گے۔ اس قانون کا مقصد ملک کو بتدریج "اسموک فری” بنانا ہے، جس کے لیے ہر سال سگریٹ خریدنے کی قانونی عمر میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نوجوان نسل کو تمباکو نوشی کی لت سے بچایا جا سکے گا اور مستقبل میں صحت کے شعبے پر پڑنے والا بھاری بوجھ کم ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی دنیا کی منفرد ترین حکمت عملیوں میں شمار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے ایک پوری نسل کو سگریٹ نوشی سے دور رکھا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے ای سگریٹ (ویپنگ) کے استعمال پر بھی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ کم عمر افراد کو ہدف بنانے والے اشتہارات پر پابندی عائد کی جا رہی ہے جبکہ اسکولوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات کے قریب ویپنگ پر بھی مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔
یاد رہے کہ اس قانون کی بنیاد 2022 میں جاری ہونے والی ایک جامع رپورٹ پر رکھی گئی تھی، جس میں برطانیہ کو 2030 تک سگریٹ نوشی سے پاک بنانے کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ موجودہ قانون سازی انہی سفارشات کو عملی شکل دینے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین صحت نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف لاکھوں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ معاشی طور پر بھی ملک کو نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔
حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔