بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں 2 ماہ کی حاملہ خاتون توئشا شرما پر اسرار طور پر ہلاک ہوگئی، اہلخانہ نے شوہر اور سسرالیوں پر تشدد اور جہیز کیلئے ہراسانی کا الزام عائد کردیا، پولیس نے کیس کو مشتبہ خودکشی قرار دیکر تحقیقات شروع کردی۔
پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی توئشا شرما ایم بی اے گریجویٹ تھیں اور مارکیٹنگ و کمیونیکیشن کے شعبے میں کام کرتی رہی تھیں۔ وہ فلموں سے بھی وابستہ رہیں اور سابق ’مس پونے‘ رہ چکی تھیں، انہوں نے ایک فلم مگورو مونگولو میں بھی کام کیا تھا جبکہ خود کو یوگا ٹرینر بھی قرار دیتی تھیں۔
توئشا شرما کی سسرال میں پراسرار موت نے بھارت میں ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کرلی ہے، جہاں اہلخانہ نے شوہر اور سسرالیوں پر ذہنی و جسمانی تشدد، جہیز ہراسانی اور تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 31 سالہ توئشا شرما، جو تقریباً دو ماہ کی حاملہ تھیں، 12 مئی کی رات بھوپال کے علاقے کٹارا ہلز میں اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئیں۔
ان کی شادی دسمبر 2025 میں سمارتھ سنگھ سے ہوئی تھی، جن سے ان کی ملاقات 2024 میں ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر کیس کو مشتبہ خودکشی قرار دے کر تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم توئشا کے اہلخانہ نے قتل اور سازش کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
توئشا کے خاندان کی شکایت پر پولیس نے سمارتھ سنگھ اور ان کی والدہ، ریٹائرڈ جج گیری بالا سنگھ کے خلاف جہیز ہراسانی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس نے سمارتھ سنگھ کی گرفتاری کے لیے 10 ہزار روپے انعام کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ کیس کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کی گئی ہے۔
اہلخانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ توئشا کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے، اسی لیے انہوں نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ اور عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
توئشا کے خاندان کے مطابق شادی کے بعد انہیں مسلسل ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا رہا۔ ان کے بقول توشا کو ملازمت اور حمل کے معاملے پر دباؤ میں رکھا جاتا تھا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ توشا اپنی موت سے قبل شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا تھیں اور بارہا واپس نوئیڈا آنے کی خواہش ظاہر کرتی رہی تھیں۔
توئشا کے والد نے الزام لگایا کہ ملزمان اپنے عدالتی پس منظر اور اثر و رسوخ کا استعمال کرکے قانونی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تحقیقات میں سامنے آنے والی واٹس ایپ چیٹس کے مطابق توئشا نے اپنی والدہ کو لکھا تھا ’مجھے بہت زیادہ گھٹن ہو رہی ہے ماں‘۔ دیگر پیغامات میں انہوں نے مبینہ طور پر لکھا کہ ’یہ لوگ بہت ظالم ہیں، سمارتھ مجھ سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتا، میری زندگی جہنم بن گئی ہے‘۔
اپنی دوست میناکشی کو انسٹاگرام پر بھیجے گئے آخری پیغام میں توئشا نے لکھا: ’’میں پھنس گئی ہوں، تم مت پھنسنا‘‘۔
دوسری جانب توئشا شرما کی ساس گیری بالا سنگھ نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے اپنی عبوری ضمانت کی درخواست میں دعویٰ کیا کہ توئشا منشیات کے استعمال اور جذباتی عدم استحکام کا شکار تھی۔
درخواست میں کہا گیا کہ شادی کے بعد توئشا میں نشہ آور اشیا کے استعمال جیسی علامات دیکھی گئیں، تاہم توشا کے اہلخانہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔