مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر خود اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے مگر حالات میں بہتری نہیں آئی اور حملے، زمینوں پر قبضے اور ناکہ بندیاں جاری ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ آبادکاروں کی کارروائیاں کسی بھی وقت فلسطینی بغاوت کو جنم دے سکتی ہیں۔
سابق انٹیلیجنس سربراہ نے بھی متاثرہ دیہات کا دورہ کر کے ان واقعات کو ماضی میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم سے تشبیہ دی ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں گزشتہ ہفتے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور چھاپوں کے دوران کم عمر لڑکوں سمیت کئی فلسطینی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
نابلس، الخلیل اور دیگر علاقوں میں نئے غیر قانونی ٹھکانے قائم کیے گئے جبکہ کئی دیہاتوں کی سڑکیں بند کر دی گئیں، متعدد حملوں میں خواتین سمیت کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
اسرائیلی فورسز نے زرعی علاقے مسمار کر دیے ہیں اور زمینیں فوجی مقاصد کے لیے ضبط کر لی گئی ہیں، 1 گاؤں میں 25 افراد پر مشتمل 4 خاندانوں کا گھر بھی گرا دیا گیا۔
ادھر فلسطینی اتھارٹی کے لیے ٹیکس کی مد میں تقریباً 740 ملین شیکل کی رقم روک لی گئی ہے جس سے مالی بحران مزید شدید ہو گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں بھی صورتِ حال کشیدہ ہے جہاں اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت کئی افراد شہید ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اب تک 72600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں 86 فیصد طبی سامان ختم ہو چکا ہے جس سے اسپتالوں میں علاج متاثر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فورسز کی جانب سے امدادی قافلے کو سمندر میں روک لیا گیا ہے جبکہ جنگ بندی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔