امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کےلیے وفد پاکستان نہ بھیجنے کی وجہ بتادی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکی وفد 18 گھنٹے کی پرواز کے بعد وہاں جاکر بےمقصد باتوں کےلیے نہیں بیٹھے گا۔
انہوں نے کہا کہ سفر میں بہت وقت ضائع ہوتا ہے اور کام بھی بہت زیادہ ہے، محض بیٹھنے اور بےمقصد گفتگو کےلیے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق تاحال سوچا نہیں ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اندرونی خلفشار کا شکار ہے،تہران میں قیادت کے درمیان کشمکش جاری ہے جبکہ امریکا اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کئی معاملات میں شدید اندرونی جھگڑا اور الجھن موجود ہے، وہ قیادت سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ہم نے اُن کی قیادت ختم کردی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں ایران کے ساتھ موثراور فیصلہ ساز معاہدہ کرنے کےلیے تیار ہوں ، اس کی بنیادی شرط جوہری ہتھیاروں کے حصول پر مکمل پابندی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جب چاہیں مجھے کال کرسکتے ہیں ، ہمارے پاس تمام کارڈز ہیں ، ہم ہر محاذ پر جیت چکے ہیں جبکہ اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
امریکی صدر کا جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہنا تھا کہ میں نے تاحال اس معاملے پر غور ہی نہیں کیا ہے، ایران سے ملنے والا ابتدائی مسودہ توقعات کے مطابق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تمام اختیارات ہیں جبکہ ایران کے پاس کچھ بھی نہیں، اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف فون کرنا ہوگا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے حالیہ تنازع کو حل کروانے کےلیے بہترین کام کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بہترین شخصیات ہیں۔