امریکی دفاعی بجٹ کے لیے جاری سماعت میں ڈیموکریٹک رکن کانگریس جان گریمینڈی نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ اور ٹرمپ پہلے دن سے امریکی عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ ٹرمپ جنگ کر کے مشرق وسطیٰ کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔
ڈیموکریٹک رکن کانگریس نے کہا کہ ایرانی قیادت اور ایران کی فوجی صلاحیت آج بھی قائم ہے۔ امریکا کے 13 فوجی ہلاک، سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ تنازع نے ایران کے چین، روس اور شمالی کوریا سے تعلقات کو مضبوط کر دیا ہے۔ ایران سے جنگ امریکا کا خود کو لگایا گیا زخم ثابت ہو رہا ہے۔
وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ڈیموکریٹک رکن کانگریس جان گریمینڈی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں امریکی مخالفین کو پروپیگنڈے کا مواد فراہم کریں گی، مسٹر جان گریمینڈی ٹرمپ سے نفرت نے آپ کو اندھا کردیا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے پیشی کے موقع پر کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران جنگ میں سے بڑا چیلنج کانگریس ارکان کی مخالفت کا ہے۔ ابھی جنگ شروع ہوئے صرف دو ماہ ہوئے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ، عراق، افغانستان اور ویتنام کی جنگوں سے بہت چھوٹی ہے۔ لیکن جو سب سے بڑا چیلنج اس وقت درپیش ہے وہ ڈیموکریٹس اور کچھ ری پبلیکنز کی جنگ مخالفت اور حوصلہ شکن اور لاپراہی والے بیانات ہیں، وائٹ ہاؤس دباؤ ڈال کر ایران کو نئی نیوکلیئر ڈیل پر راضی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں نے ایرانی ایٹمی صلاحیت تباہ کر دی ہے، تاہم اب بھی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے عزائم رکھتا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ ہزاروں روایتی میزائلوں کے باوجود وہ ایٹمی ہتھیار بھی بنائے۔ امریکا کسی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔