یورپی پارلیمنٹ پلس لگسمبرگ پر سکھ سنگت سکھ آرگنائزیشن اور گردوارہ کے زیر اہتمام خالصتان کو آزاد کرو کے عنوان سے عظیم الشان مظاہرہ کیا گیا، جس میں بیلجیئم سمیت یورپ بھر سے سکھ کمیونٹی کی سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
مظاہرین نے بھارتی حکومت کی جعلی جمہوریت کا پردہ چاک کرتے ہوئے خالصتان کی آزادی کا پرچم بلند کر دیا، انھوں نے کہا کہ مودی سرکار خالصتان کی آزادی کو دبا نہیں سکتی۔
سکھ رہنما گردیال سنگھ نے کہا کہ ہمارے بڑوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر آزادی کا علم بلند کیا، ہمارے بہت سے لوگوں کو تختہ دار پر سرعام لٹکا کر تحریک آزادی کو دبانے کی کوششیں کی گئیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے اندر سے بہت سے ہمارے اپنے ہی لوگوں نے تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس موقع پر امرتسر کے اکال تخت پر سکھ خالصتان کے اعلان کی 40ویں برسی منانے کا عندیہ دیا گیا اور وہ سکھ رہنما جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں انکی یاد میں سکھ کمیونٹی ہمیشہ آواز بلند کرتی رہے گی۔
جبکہ یورپ بھر سے سکھ برسلز کے لکسمبرگ اسکوائر میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے "فریڈم ریلی” میں کثیر تعداد میں جمع ہوئے، سکھ تحریک آزادی خالصتان کا احتجاجی مظاہرہ دوپہر 12 سے 2 بجے تک جاری رہا۔
سکھ فیڈریشن یوکے کی پریس ریلیز کے مطابق، برسلز پریس کلب میں شام 4 سے 6 بجے پریس کانفرنس ہوگی، جس کا لائیو فیڈ شیئر کیا جائے گا۔ کلیدی پیغامات میں بھارت کی 1948 کی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ کرنے، حق خود ارادیت کے حقوق کی خلاف ورزی اور ہندوتوا کے ذریعے ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کو بھارت کے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھارت سرکار سکھ کمیونٹی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر ان کے جذبہ آزادی کو ختم کرنے کے در پر ہے، سکھ رہنماؤں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے خالصتان کی آزادی کے لیے انکی تحریک کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔
سکھوں کا کہنا ہے کہ خالصتان سمیت نئی ریاستیں ابھریں گی، بھارت کم از کم 8 ریاستوں میں تقسیم ہوگا، جبکہ امریکا، چین، برطانیہ، جرمنی جیسے ممالک بھارت کو غیر معتبر سمجھ رہے ہیں۔