ایک نئی طبی تحقیق نے اس عام خیال کو چیلنج کر دیا ہے کہ زیادہ پانی پینا گردے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے کافی ہے۔
جریدے ’دی لانسیٹ‘ میں 2026ء میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق صرف پانی کی مقدار بڑھانے سے پتھری کے دوبارہ بننے کے خطرے میں نمایاں کمی نہیں آتی۔
تحقیق میں 1600 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جنہیں پہلے گردے کی پتھری ہو چکی تھی، انہیں زیادہ پانی پینے کی ترغیب دی گئی لیکن نتائج سے ظاہر ہوا کہ اس سے بیماری کے دوبارہ ہونے پر کچھ خاص اثر نہیں پڑا۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف روزانہ کم از کم 2.5 لیٹر پیشاب بنانا ہونا چاہیے جو صرف پانی پینے سے ہمیشہ حاصل نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی اہم ضرور ہے لیکن سادہ پانی کافی نہیں، خوراک، نمک کا استعمال اور جسمانی میٹابولزم بھی پتھری بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق مؤثر بچاؤ کیلئے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
نمک کا کم استعمال، مناسب مقدار میں کیلشیئم لینا، گوشت کا متوازن استعمال اور آکزیلیٹ والی غذاؤں (جیسے پالک اور چقندر) کا اعتدال میں استعمال کرنا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار پتھری ہونے کی صورت میں ڈاکٹر ادویات بھی تجویز کرتے ہیں جن میں پوٹاشیئم سِٹریٹ، تھیازائیڈ اور ایلوپیورینول شامل ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ پانی پینے کے بجائے جسم کی ضروریات کے مطابق پیشاب کی مقدار پر توجہ دی جانی چاہیے، صرف پانی پر انحصار کافی نہیں، پانی کے بہتر انجذاب کے لیے پانی میں چٹکی بھر نمک (پنک سالٹ) اور لیموں کے رس کا استعمال کیا جائے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہلکے پیلے رنگ کا پیشاب مناسب ہائیڈریشن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔